شادی کسی سماجی دباؤ کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اپنی مرضی، محبت اور آئیڈیلزم کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا : اداکارہ
پاکستانی اداکارہ، مصنفہ اور میزبان میرا سیٹھی نے پہلی بار اپنی شادی اور طلاق کے تجربے پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شادی اور بعد ازاں علیحدگی ان کا ذاتی فیصلہ تھا، اس لیے وہ اس کا ذمہ دار کسی دوسرے شخص کو نہیں سمجھتیں۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران میرا سیٹھی نے کہا کہ طلاق کے بعد انہیں زندگی کے کئی اہم سبق سیکھنے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق انسان کو ہر وقت صرف اپنی “گَٹ فیلنگ” پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، جبکہ کسی بھی رشتے کی خاطر اپنی اصل شخصیت کو تبدیل کرنا بھی درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ چاہے معاملہ شریکِ حیات، دوست، باس یا کسی اور تعلق کا ہو، خود کو دوسروں کی خواہش کے مطابق بدل دینا بالآخر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول لوگ اکثر چاہتے ہیں کہ سامنے والا ان کی پسند کے مطابق خود کو ڈھال لے، تاہم اپنی شناخت برقرار رکھنا زیادہ اہم ہے۔
اداکارہ نے بتایا کہ اس مشکل مرحلے نے انہیں ذہنی طور پر زیادہ مضبوط اور بالغ بنایا، اور وقت گزرنے کے ساتھ وہ اس تجربے سے آگے بڑھ چکی ہیں، اسی لیے اب اس موضوع پر کھل کر بات کرنے میں خود کو مطمئن محسوس کرتی ہیں۔
میرا سیٹھی نے معاشرے میں طلاق یافتہ خواتین سے متعلق رویوں پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اکثر خواتین کو علیحدگی کے بعد تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں رشتہ نہ نبھا سکنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی شادی کسی سماجی دباؤ کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ انہوں نے اپنی مرضی، محبت اور آئیڈیلزم کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ شادی ان کی اپنی پسند تھی، اس لیے اس کے انجام کی ذمہ داری بھی وہ خود قبول کرتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ اپنی طلاق کے لیے نہ اپنے سابق شوہر کو موردِ الزام ٹھہراتی ہیں اور نہ ہی کسی اور کو، کیونکہ یہ ان کی زندگی کا ذاتی فیصلہ تھا۔