ایران اور امریکا کے مابین جنگ نے حقیقت آشکار کر دی

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی خاطر ایران اور امریکا کے مابین جنگ نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ عالمی معیشت میں سمندری راستوں کا عنصر انتہائی اہم ہو چکاہے، سمندری راستوں سے دنیا بھر میں80 سے 90 فیصد سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا۔

دنیا کی معیشت بڑی حد تک چند اہم بحری راستوں پر منحصر ہے جو عالمی تجارت، تیل و گیس کی ترسیل اور خام مال کی نقل و حمل کو ممکن بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان میں سے کسی ایک اہم سمندری گزرگاہ میں بھی خلل پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی قیمتوں، مہنگائی اور سپلائی چین پر پڑتے ہیں۔

آبنائے ہرمز: آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج عرب کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس راستے سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے جس کی یومیہ مالیت تقریباً 1.7 ارب ڈالر بنتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔

آبنائے ملاکا: ملائیشیا اور انڈونیشیا کے درمیان واقع آبنائے ملاکا بحرِ ہند کو بحرالکاہل سے ملاتی ہے۔ یہ ایشیا کی معیشتوں کے لیے نہایت اہم راستہ ہے جہاں سے عالمی سمندری تیل تجارت کا تقریباً 29 فیصد گزرتا ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ ایشیائی معیشتوں اور عالمی سپلائی چین کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز  مصر میں واقع نہر سویز یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کو مختصر بناتی ہے۔ عالمی سمندری تیل کی تقریباً 10 فیصد ترسیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ 2021 میں ایک بڑے کارگو جہاز کے پھنسنے سے اس نہر کی بندش نے عالمی تجارت کو شدید متاثر کیا تھا۔

نہر پاناما: نہر پاناما بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملاتی ہے اور خاص طور پر امریکا کے مشرقی اور مغربی ساحلوں کے درمیان تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہاں رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں جہازوں کو جنوبی امریکا کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے جس سے اخراجات اور وقت دونوں بڑھ جاتے ہیں۔

آبنائے باب المندب: یمن کے قریب واقع آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور نہر سویز کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس علاقے میں سکیورٹی خدشات اور حملوں کے باعث ماضی میں جہاز رانی متاثر ہوتی رہی ہے۔

آبنائے باسفورس: ترکی میں واقع آبنائے باسفورس دنیا کی تنگ ترین بین الاقوامی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جو بحیرہ اسود کو بحیرہ روم سے ملاتی ہے۔ روس، قازقستان اور آذربائیجان سے آنے والے تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *