گزشتہ چھ برسوں میں پاکستان کی آبادی میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد کا اضافہ ہوا، جو 16 فیصد بنتا ہے
پاکستان کا انتظامی نقشہ ایک ایسے ملک کے لیے بنایا گیا تھا جو اب موجود نہیں۔ آج بھی پاکستان میں صرف چار صوبے ہیں، اتنے ہی جتنے 55 سال پہلے تھے، جبکہ مشرقی پاکستان، جو کبھی ایک صوبہ تھا، اب آٹھ انتظامی اکائیوں اور 64 اضلاع پر مشتمل ہے۔ اس دوران پاکستان کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، مگر انتظامی نقشہ ایک انچ بھی نہیں بدلا۔ یہی عدم مطابقت بنیادی وجہ ہے کہ وسائل ان لوگوں تک نہیں پہنچ پاتے جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
وسائل کے انتظام کے حوالے سے پاکستان کا موجودہ نظام اس حجم کے ملک کے لیے موزوں نہیں۔ 2023 میں ملک کی آبادی 24 کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی، جبکہ آبادی کی اوسط کثافت تقریباً 260 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔ بظاہر یہ ایک صحت مند اور ترقی پذیر ملک کی علامت ہے، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ آبادی کس طرح تقسیم ہے تو اصل مسئلہ سامنے آتا ہے۔
صرف گزشتہ چھ برسوں میں پاکستان کی آبادی میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد کا اضافہ ہوا، جو 16 فیصد بنتا ہے۔ اس آبادی کا 61 فیصد دیہی علاقوں میں اور 39 فیصد اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں رہتا ہے۔ ایک ناقابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ نوجوان مسلسل دیہات چھوڑ کر شہروں کا رخ کر رہے ہیں، کیونکہ روزگار، جامعات اور معیاری اسپتال صرف شہری علاقوں میں ہی دستیاب ہیں۔
یہ نقل مکانی کسی طرزِ زندگی کا انتخاب نہیں بلکہ ایک مجبوری ہے۔ جب صرف چار صوبائی حکومتوں کو اتنی آبادی سنبھالنے کی ذمہ داری دی جائے جو ان کے قیام کے وقت کی آبادی سے پانچ گنا زیادہ ہو چکی ہو، تو ایسے حالات پیدا ہونا فطری ہیں۔
صرف پنجاب ہی ملک کی 59 فیصد آبادی کا گھر ہے۔ اسے ایک انتظامی اکائی کے طور پر چلایا جا رہا ہے، حالانکہ اس کی آبادی دنیا کے بیشتر ممالک سے زیادہ ہے۔ کوئی بھی صوبائی حکومت، خواہ کتنی ہی قابل کیوں نہ ہو، ایک ہی دارالحکومت سے اتنی بڑی آبادی تک بجلی، صحت اور تعلیم جیسی سہولتیں یکساں طور پر نہیں پہنچا سکتی۔
دوسری جانب بلوچستان کا مسئلہ اس کے برعکس ہے۔ یہ پاکستان کے کل رقبے کا 48 فیصد حصہ رکھتا ہے، لیکن یہاں ملک کی صرف 11 سے 12 فیصد آبادی آباد ہے۔ گزشتہ چھ برسوں میں قومی آبادی میں ہونے والے اضافے کا بڑا حصہ بلوچستان نے بھی جذب کیا ہے، حالانکہ ملک کا سب سے کمزور انفراسٹرکچر یہی صوبہ رکھتا ہے۔
یہ دونوں صوبے دو مختلف ناکامیوں کی نمائندگی کرتے ہیں، مگر ان کی بنیادی وجہ ایک ہی ہے: انتظامی اکائیاں اپنے حجم کے اعتبار سے اس ذمہ داری کے لیے موزوں نہیں رہیں۔
اس مسئلے کے اعداد و شمار قومی سطح پر بھی نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے 82 فیصد شہریوں کو بجلی میسر ہے، لیکن یہ اوسط شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان موجود گہرے فرق کو چھپا لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہری آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مسائل کی فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بلوچستان میں ایک ڈاکٹر اوسطاً 10 ہزار سے 10 ہزار 500 افراد کے لیے دستیاب ہے۔ صوبے کے 60 فیصد علاقے صاف پانی سے محروم ہیں، جبکہ واٹر فلٹریشن پلانٹس اس سے بھی کم ہیں۔ اسی طرح ملک بھر کے دیہی علاقوں میں 70 فیصد آبادی کو معیاری تعلیم میسر نہیں، جبکہ 44 سے 45 فیصد لوگ مڈل اسکول تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔
اس فاصلے کی انسانی قیمت ہر صوبے میں ایک جیسی ہے۔ ان علاقوں میں تربیت حاصل کرنے والے نوجوان ڈاکٹر پنجاب، سندھ اور اسلام آباد کا رخ کر لیتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سیکیورٹی ہے، کیونکہ دور دراز علاقوں میں ان کی جان کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پکی سڑک سے 30 کلومیٹر دور واقع ایک ایسا اسپتال، جہاں بنیادی طبی سامان تک موجود نہ ہو، کسی بھی ڈاکٹر کے لیے کیریئر بنانے کا موقع فراہم نہیں کرتا۔
ان علاقوں میں فنی تربیت کے ادارے تو موجود ہیں، لیکن اکثر بند پڑے رہتے ہیں۔ مسئلہ فنڈز کی کمی نہیں بلکہ انہیں چلانے کے لیے انتظامی صلاحیت کا فقدان ہے۔
یہ صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں۔ جہاں بھی صوبائی حکومت بہت بڑی، حد سے زیادہ مرکزیت کی حامل یا اپنی آبادی سے دور ہو، وہاں یہی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بلوچستان صرف اس کی انتہائی مثال ہے۔ اگر اسے تین یا چار صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے تو حکومتیں واقعی وہاں کے لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں۔
پھر مالی وسائل کی تقسیم کا مسئلہ بھی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں کا مطالبہ محض انتظامی نہیں بلکہ آئینی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
پاکستان کا آئین وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اس صوبے سے جوڑتا ہے جہاں سے وہ وسائل پیدا ہوتے ہیں۔ سندھ قومی آمدنی کا تقریباً 70 فیصد پیدا کرتا ہے، لیکن اسے واپس صرف 24 سے 25 فیصد ملتا ہے۔ اسی طرح بلوچستان گیس اور معدنی وسائل سے مالا مال ہے، جو وفاقی خزانے کو بھرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر خود اس کے بہت سے علاقے آج بھی گیس اور قابلِ اعتماد بجلی سے محروم ہیں۔
اسے صرف فنڈز کی کمی قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ مسئلہ بنیادی طور پر ساختی نوعیت کا ہے۔ جو صوبے اپنے اندرونی معاملات سنبھالنے کے لیے بہت بڑے ہوں، وہ اپنے حقوق کا درست حساب رکھنے اور انہیں حاصل کرنے کی صلاحیت بھی کھو دیتے ہیں۔
ساختی مسائل کے لیے ساختی حل درکار ہوتے ہیں، اور یہی دلیل مزید صوبوں کے قیام کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ موجودہ چار صوبوں کے ڈھانچے پر مزید مالی فارمولے مسلط کرنے کے بجائے نئے صوبے بنانا زیادہ مؤثر حل ہو سکتا ہے۔
یہ بحث ضرور ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہییں۔ اس وقت چار ہیں، لیکن اگر ان کی تعداد چھ یا آٹھ ہو جائے تو یہ موجودہ صورتحال سے بہتر ہوگا۔ اس سے انتظامیہ دیہات تک پہنچ سکے گی، پنجاب کی 59 فیصد آبادی ایک ہی اکائی کے طور پر نہیں چلائی جائے گی، اور بلوچستان کے 48 فیصد رقبے کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔
بلوچستان کی محرومیاں، پنجاب کا آبادی کا دباؤ، سندھ کے مالیاتی تحفظات اور کراچی و لاہور پر بڑھتا ہوا بوجھ دراصل چار الگ الگ بحران نہیں بلکہ ایک ہی بحران کی مختلف شکلیں ہیں۔ اور یہ بحران اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک ملک کو آج بھی نصف صدی پرانے نقشے کے مطابق چلایا جاتا رہے۔