ضروری طریقہ کار طے پانے کے بعد مزید ممالک معاہدے کا حصہ ہونگے، ترجمان

ترجمان ترک وزارت دفاع کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت متوقع ہے، ضروری طریقہ کار طے پانے کے بعد مزید ممالک معاہدے کا حصہ ہونگے۔

ترک وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق معاہدے کا مقصد دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید فروغ دینا ہے، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی شراکت بھی معاہدے کا حصہ ہے۔

بیان کے مطابق ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پائیدار ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم ہوگا، اتحادی ممالک معاہدے کے تحت مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے۔

دوسری جانب امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ نے پاکستان کی عسکری مہارت، سعودی مالی وسائل اور ترک دفاعی صنعت کے امتزاج کو ایک مضبوط نئے دفاعی صنعتی مرکز کی بنیاد قرار دے دیا ہے۔

امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ کے مطابق مکہ معاہدہ، گہرے سفارتی اور عسکری اثرات کے ساتھ ساتھ  ایک مربوط دفاعی صنعتی نظام کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان عالمی دفاعی منڈی میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ زمینی، بحری اور فضائی دفاعی نظام کی مکمل رینج برآمد کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ پاکستان کی بکتر بند گاڑیوں، ہتھیاروں اور گولہ بارود کی بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت کو سعودی مالی وسائل اور ترک جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *