چینی اہلکاروں نے بھارتی علاقے میں خیمے نصب کردیے،رپورٹ

ہمالیہ کے ایک دور افتادہ علاقے میں انڈیا اور چینی فوجیوں کے درمیان نئی کشیدگی کی اطلاعات کے بعد بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ متنازع سرحد پر امن اور استحکام دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے انتہائی اہم ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بھارت کی وزارتِ خارجہ کا یہ بیان ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں اس معاملے پر دوسرا بیان ہے۔ انڈیا اور چین 2020 میں سرحدی جھڑپوں کے بعد تعلقات میں آنے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو معمول کی بریفنگ کے دوران کہا کہ انڈیا نے ہمیشہ چینی حکام کے ساتھ بات چیت میں واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں سے متعلق معاملات کو انتہائی سنجیدہ سمجھتا ہے۔ سرحدی صورتحال دونوں ممالک کے وسیع تر دوطرفہ تعلقات کی صورتحال پر اثر انداز ہوگی۔

یہ بیان بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان نئی مبینہ کشیدگی سے متعلق سوال کے جواب میں دیا گیا۔ چین کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع نے معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ بھارت ویب سائٹ نے انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی بریفنگ کے بعد رپورٹ کیا کہ جولائی کے اواخر میں انڈین اور چینی فوج کے گشت کرنے والے دستے اروناچل پردیش کے ضلع اپر سوبنسری میں واقع دور افتادہ سرحدی گاؤں تکسنگ کے قریب آمنے سامنے آگئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مشرقی ہمالیہ میں بھارت کنٹرول والے علاقے کے تقریباً آڑھائی کلومیٹر اندر پیش آیا، جس کے بعد چینی اہلکار واپس چلے گئے۔ تاہم رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اگست کے آغاز میں چینی اہلکار دوبارہ اس علاقے میں آئے اور وہاں دو خیمے بھی نصب کیے۔

یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان تقریباً تین ہزار 488 کلومیٹر طویل متنازع سرحد ہے، جہاں دونوں ممالک کے گشت کرنے والے فوجہ دستے کا آمنے سامنے آنا غیر معمولی نہیں، تاہم ایسا اکثر نہیں ہوتا۔

سن 2020 میں مغربی ہمالیہ میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 20 انڈین فوجی اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد نئی دہلی اور بیجنگ کے تعلقات شدید متاثر ہوئے۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے سرحد پر دسیوں ہزار فوجی اور بھاری عسکری سازوسامان تعینات کردیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *