انسدادِ تجاوزات کے نام پر جو کچھ برپا کیا جا رہا ہے، وہ قانون کی عملداری سے زیادہ کھلی بدعنوانی اور بدسلوکی کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔ کیا کوئی باقاعدہ قانون منظور ہوا ہے جس کے تحت پولیس کے علاوہ اوباش اور اوچھے عناصر کو بھی اس طرح کی کارروائیوں میں شریک کیا جائے؟
اگر مزاحمت کی صورت میں کوئی افسرِ مجاز خود ہی سڑک پر عدالت لگا کر شہریوں کو ہراساں کرے، مغلظات بکے، دست درازی کرے، گھونسوں اور لاتوں کی بوچھاڑ کرے، اور اس پر مستزاد کے ساتھ موجود شخص اسلحہ نکال نے کی دھمکیاں دے—تو یہ صریحاً قانون شکنی، اختیارات کا ناجائز استعمال اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔
یہ کون سا نظامِ عدل ہے جہاں ایک سرکاری اہلکار خود ہی مدعی، منصف اور جلاد بن بیٹھے؟ ایسے شرمناک اور قابلِ مذمت طرزِ عمل پر نہ صرف فوری بازپرس ہونی چاہیے بلکہ ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو اس قسم کی دیدہ دلیری کی جرات نہ ہو۔