اپوفِس کا یہ فلکیاتی نظارہ تقریباً 7 گھنٹے تک جاری رہے گا، یہ صبح 11 بجے شروع ہو گا
دنیا ایک نادر فلکیاتی منظر کی منتظر ہے، جہاں 99942 اپوفِس نامی دیوہیکل آسٹیرائیڈ 13 اپریل 2029 کو زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا، اور اندازہ ہے کہ دنیا کی تقریباً 90 فیصد آبادی، یعنی 7.6 ارب افراد اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق اپوفِس عام شہابیے (میٹیور) کی طرح چند لمحوں میں غائب نہیں ہوگا بلکہ آسمان پر ایک روشن نقطے کی صورت میں آہستہ آہستہ حرکت کرتا دکھائی دے گا، جس کی زیادہ سے زیادہ ظاہری رفتار تقریباً ایک قمری قطر فی منٹ ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق اپوفِس کا یہ فلکیاتی نظارہ تقریباً 7 گھنٹے تک جاری رہے گا۔ یہ 11 بجے صبح سے شام 6 بجے تک (ایسٹرن ڈے لائٹ ٹائم) آسمان پر نظر آئے گا۔ اس دوران یہ پہلے آسٹریلیا کے اوپر سے نمودار ہوگا اور بعد ازاں شمالی بحرِ اوقیانوس کے اوپر سے گزرتا ہوا دیکھا جا سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اپوفِس اپنی زیادہ سے زیادہ چمک شام 4 بج کر 35 منٹ پر حاصل کرے گا، جب یہ کیمرون کے اوپر سے گزرتے ہوئے افریقہ، ایشیا، جنوبی امریکہ اور یورپ کے بعض حصوں میں سب سے زیادہ واضح دکھائی دے گا۔
سائنسدانوں کے مطابق اپوفِس کی دریافت 2004 میں ہوئی تھی۔ ابتدائی اندازوں میں اس کے زمین سے ٹکرانے کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے، تاہم بعد میں جدید مشاہدات اور تحقیق سے یہ واضح ہو گیا کہ آئندہ کم از کم 100 برس تک اپوفِس کے زمین سے ٹکرانے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔