کراچی (رپورٹ زاہد کیرانی ) وزرات خارجہ کراچی لائزن آفس کے ڈائریکٹر جنرل محمد عرفان سومرو نے کہا ہے کراچی میں اپنی ذمہ داریاں کامیابی سے مکمل کرنے والے معزز ساتھیوں کو الوداع کہنے کے ساتھ ساتھ اس متحرک شہر میں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے والے معزز سفارت کاروں کی کراچی تعیناتی نیک شگون ہے وہ اسٹیٹ گیسٹ ہائوس میں سبکدوش ہو نے والے برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر لانس گیون ڈوم اور فرانس کے قونصل جنرل یکسیس چاہتاحتنسکی کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی استقبالیہ سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر لانس گیون ڈوم اور لیکسیس چاہتاحتنسکی نے بھی اظہار خیال کیا تقریب میں مختلف ممالک کے سفارت کارو نے شرکت کی ۔عرفان سومرو نے کہا ہے کہ وہ لانس گیون ڈوم اور الیکسیس چاہتاحتنسکی کی قیمتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں،اور ساتھ ہی مدثر، اکبر عیسیٰ زادہ، ارگل کاداک اور جوہون کم کو کراچی میں اپنی سفارتی ذمہ داریوں کے آغاز پر دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ شہر کراچی محض تعیناتی کی جگہ نہیں بلکہ ایک منفرد تجربہ ہے۔پاکستان کی معاشی اور تجارتی شہ رگ ہونے کے ناطے یہ شہر سفارت کاروں کو روایتی سفارت کاری سے کہیں بڑھ کر مواقع فراہم کرتا ہے۔ دنیا کے کم ہی شہر ایسے ہیں جہاں کاروباری رہنماؤں، سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات، میڈیا، تعلیمی حلقوں، سول سوسائٹی اور خطے کی سب سے متحرک کاروباری برادری تک براہِ راست رسائی میسر ہو۔معزز ساتھیوں اور سفارت کاروں،بہت سے دارالحکومتوں میں سفارت کاروں کو معاشی روابط قائم کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں، مگر کراچی اس روایت کو بدل دیتا ہے۔ یہاں مواقع خود آپ کے دروازے تک آتے ہیں۔ کاروباری برادری خود سفارتی برادری سے رابطہ کرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ شہر تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری اور اقتصادی سفارت کاری کا ایک فطری مرکز بن جاتا ہے۔
ہمارے رخصت ہونے والے ساتھیوں سے کہنا چاہوں گا کہ جب آپ اپنے دارالحکومتوں کو واپس جائیں گے یا نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے تو کراچی کا ایک حصہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گا — اس شہر کی گرمجوشی، حوصلہ اور جذبہ۔اکثر کہا جاتا ہے کہ آپ کسی شخص کو کراچی سے تو نکال سکتے ہیں، مگر کراچی کو اس کے دل سے نہیں نکال سکتے — اور یہ بات تقریباً ہر بڑے شہر کے بارے میں درست محسوس ہوتی ہے۔ہمیں امید ہے کہ آپ پاکستان کا یہ پیغام بھی اپنے ساتھ لے کر جائیں گے۔
لانس گیون ڈوم نے کہا کہ پاکستان اور بر طانیہ کے درمیان 80لاکھ ڈالر کی باہمی تجارت ہے اس کو بڑھانے کی ضرورت ہے برطانیہ میں ہزاروں طلبہ وطالبات مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ ڈپلومیسی بھی جاری ہے فرانس کے قونصل جنرل لیکسیس چاہتاحتنسکی نے کہا کہ پاکستان اور فرانس کے درمیان قدیم باہمی رشتے ہیں فرانس دفاعی شعبے سمیت تعلیم صیحت ثقافت اور تجارت کے شعبے میں تعاون کر رہا ہے فرانس کی مدد سے پاکستان میں نیوی کو مضبوط کر نے کے لیے سب میرین کی تیاری کو مکمل کرنے کے ساتھ جہاز رانی پر بھی کام ہو رہا ہے امان کے قونصل جنرل انجینیئر سمع الخنجیری نے کہا کہ کراچی شہر پاکستان کا معاشی اور ثقافتی دل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے لوگ بہت ملنسہار ہیں دونوں ملکوں کے درمیان سفارت کاری فروغ پا رہی ہے جو دونوں ملکو ں کے عوام کے مفاد میں ہے ۔انڈونیشیا کے قونصل جنرل مڈ ذاکر نے کہا کہ میں وزارت خاجہ کا اور خاص کر پروٹوکول آفس کا شکر گزار ہوں انڈونیشیا کی جانب سے پاکستان اور خاص کر سندھ کے ساتھ تشتے مغبوط کریں گے اور مختلف شعبوں میں تعاون آگے بڑھائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ فرانس پہلا غیر اسلامی ملک تھا جس نے پاکستان کو سب سے پہلے تسیلم کیا تھا ۔فارِن افیئرز لائژن آفس کراچی میں ہم آپ کی اہم ذمہ داریوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے اور کراچی کی سفارتی برادری میں تعاون کے جذبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔تقریب میںوزارت خارجہ کی ڈپٹی ڈائیریکٹر جنرل سعدیہ گوہر خانم ڈین آف ڈپلو میٹک کور اور امان کے قونصل جنرل انجینیئر سمع الخنجیری چین ،جنوبی کوریا ،انڈونیشیا ، سیریلنکا ،بنگلہ دیش ، سعودی عربیہ ، بیرین ، کوہیت ، ایران ، ویتنام ، جرمنی ،متعدہ عرب عمارت ،ترقی سفارت کاروں کے علاوہ اعزازی قونصل جنرل ودیگر اعلیٰ شخصیا ت بھی موجود تھے تقریب میں مہمانوں کو شیلڈز اور گلدستے پیش کیے گئے ۔#