ماہانہ 1 لاکھ 83 ہزار یا سالانہ 22 لاکھ آمدن پر ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار
آمدن جتنی زیادہ ٹیکس اتنا کم جبکہ چھوٹا ملازم طبقہ زیادہ ریلیف سے محروم رہ گیا ، نئے وفاقی بجٹ پر آج سے عمل درآمد شروع ہو چکا ہے ۔
ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار یا سالانہ 22 لاکھ آمدن پر ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار ہے جبکہ سالانہ 50 کروڑ روپے سے کم آمدنی والوں پر سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے ، اس سے پہلے 50 کروڑ روپے آمدن پر ایک سے ساڑھے 7 فیصد تک سپر ٹیکس لاگو تھا ۔
50 کروڑ سے زائد آمدن والے افراد یا کمپنیوں پر اب 8 فیصد سپر ٹیکس لاگو ہوگا ۔ اس سے پہلے 50 کروڑ سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد تھی ۔ 15 کروڑ روپے سے زیادہ سالانہ آمدن والے بعض افراد اور کمپنیوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے ۔ بینکنگ اور آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں پر 10 فیصد اور کھاد کی فروخت سے آمدن حاصل کرنے والوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس برقرار ہے ۔