اسحاق ڈار کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے مباحثے میں دوٹوک مؤقف
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی تسلیم نہیں کرتے۔ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ عالمی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری یقینی ہونی چاہیے، عالمی سطح پرقوانین کااطلاق ضروری ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی تسلیم نہیں کرتے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ میں منصفانہ اور جمہوری اصلاحات کاحامی ہے، چند ایک ممالک کو فائدہ دینے کے بجائے تمام رکن ممالک کے کردار کو تسلیم کرناہوگا، یواین چارٹرکی پاسداری کیلئےتمام رکن ممالک سے تعاون کیلئے پُرعزم ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے، ایران امریکا کشیدگی کم کرنے کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں پاکستان نے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا، پاکستان کی امن مذاکرات کی کوششوں کی حمایت پر دوست ممالک کے شکرگزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اہم سیشن کے انعقاد پر چینی وزیرخارجہ کا مشکور ہوں، موجودہ عالمی حالات میں اس سیشن کاانعقادوقت کی ضرورت تھی، اقوام متحدہ کے چارٹر میں ریاستوں کے درمیان تعلقات کےاصول وضع کیے گئے، اقوام متحدہ نےشہریوں کو مساوات اور حق خودارادیت کے حقوق دیئے۔ پاکستان اقوام متحدہ چارٹر اور اصولوں پرکار بند ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یواین چارٹر کے مطابق امن کا فروغ اور تنازعات کا حل ریاستوں کی ذمہ داری ہے، پاکستان دیرینہ تنازعات کے پُرامن حل کا حامی ہے، 8 دہائیوں سے مسئلہ کشمیرحل طلب ہے، پاکستان نہتے فلسطینیوں کےحقوق کا بھی حامی ہے۔