وزیر اعظم کا دورہ مکمل ہونے پر پاک چین مشترکہ اعلامیہ جاری

پاکستان اور چین نے نئے دور کی بین الاقوامی برادری کے قیام پر اتفاق کرلیا۔ پاک چین سیکیورٹی پارٹنرشپ  قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ گوادر کو علاقائی رابطہ مرکز بنانے کی ٹھان لی گئی۔ خنجراب راہداری کو مزید فعال کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ مکمل ہونے پر جاری مشترکہ اعلامیے میں ہر موسم کے آہنی دوست ممالک نے نئے دور کی بین الاقوامی  برادری  کے قیام پر اتفاق کرکے دنیا کو بڑا پیغام دے دیا۔ عالمی نظام میں یکطرفہ اقدامات کی مخالفت اور کثیر القطبی دنیا کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

وزیراعظم پاکستان کے دورہ چین کے اختتام پر جاری پاک چین مشترکہ اعلامیے میں دفاع، سلامتی اور انسداد دہشتگردی تعاون میں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ چین نے پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کیلئے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ سی پیک ٹو پوائنٹ او  کو تیزی سے آگے بڑھانے پر اتفاق بھی کرلیا گیا۔ 

فریقین نے سیکیورٹی پارٹنرشپ کے قیام پر اتفاق کرلیا۔خطے میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ کردار ادا کرنے کا عزم کیا گیا، جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور تمام تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات پر زور دیا گیا۔

چین نے ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان کے کردار اور “اسلام آباد مذاکرات” کو خراج تحسین پیش کیا۔ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ کردار جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

چین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ پاکستان نے ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت دہرائی اور تائیوان کو چین کا حصہ قرار دیا۔

اعلامیے میں افغانستان سہ فریقی رابطوں میں پیش رفت، ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم کے خلاف پاک چین واضح مشترکہ مؤقف،  دہشتگردی کے معاملے پر دہرے معیار کی مخالفت کی گئی۔

پاکستان اور چین نے سی پیک 2.0 کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے پر اتفاق کرلیا جبکہ گوادر کو علاقائی رابطہ مرکز بنانے کا فیصلہ، خنجراب راہداری کو مزید فعال کرنے پر زور دیا گیا۔ چین نے پاکستان کی معاشی بحالی اور “اڑان پاکستان” پروگرام کو بسراہا۔

دونوں ملکوں نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، خلائی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی میں اشتراک بڑھانے پر اتفاق کرلیا۔ معدنیات، توانائی، صنعتی پارکس اور زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے کا بھی اعلان کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *