درجہ حرارت اور محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت کیا ہوتا ہے؟
شدید گرمی کی لہر نے اس وقت یورپ کے ایک بہت بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جہاں اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ مریضوں سے بھرتے جا رہے ہیں۔
یورپ میں درجہ حرارت 35 سے 40 ڈگری تک پہنچ گیا ہے، جو دیکھنے میں کسی بھی پاکستانی کے لیے بہت زیادہ نہیں لگتا، پاکستان میں اتنی گرمی میں لوگ مزدوری کر رہے ہوتے ہیں لیکن یورپ میں اموات ایک ہزار سے اوپر جا چکی ہیں۔
تو آخر ایسا کیوں ہے کہ یورپ میں 35 ڈگری زیادہ ظالم اور دم گھٹنے والی محسوس ہوتی ہے؟ ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ انسانی جسم صرف درجہ حرارت محسوس نہیں کرتا، بلکہ ہوا میں موجود نمی، گھروں کی بناوٹ، شہروں کا انفراسٹرکچر اور انسان کا گرمی کو جھیلنے کا عادی ہونا، یہ سب مل کر طے کرتے ہیں کہ اصل میں گرمی کتنی محسوس ہو رہی ہے۔
پاکستانیوں اور یورپ کے رہائشیوں میں گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت مختلف ہونے کی سب سے پہلی اور بڑی وجہ دونوں خطوں کا جغرافیہ اور ہوا میں موجود نمی کا فرق ہے۔ یورپ کے ارد گرد بحرِ اوقیانوس اور کئی سمندر موجود ہیں، جس کی وجہ سے وہاں کی ہوا میں نمی بہت زیادہ ہوتی ہے۔
ہمارا جسم خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پسینہ نکالتا ہے، لیکن یہ پسینہ تبھی کام کرتا ہے جب یہ ہوا میں اڑ کر خشک ہو جائے۔ حبس کے موسم میں ہوا پہلے ہی نمی سے بھری ہوتی ہے، اس لیے پسینہ سوکھتا نہیں اور جسم کے لیے اپنی گرمی باہر نکالنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے ہیٹ اسٹروک اور کمزوری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یورپ کے برعکس پاکستان ایک ایسے پٹے میں واقع ہے جہاں ہر سال شدید گرمی پڑنا ایک عام بات ہے، اس لیے یہاں کے لوگ اور نظام اس ماحول کے عادی ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یورپ اور برطانیہ کے گھر اس طرح بنائے گئے ہیں کہ وہ سردیوں میں اندر کی گرمی کو باہر نہ جانے دیں اور گھر کو گرم رکھیں۔ وہاں کی اینٹیں، چھتیں اور ہوا کے گزرنے کا کمزور انتظام دن بھر گرمی کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور رات کو یہ گرمی آہستہ آہستہ گھر کے اندر ہی نکلتی ہے، جس سے گھر ایک تندور کی طرح کام کرنے لگتے ہیں۔
اس کے برعکس، پاکستان کے گھر گرمیوں کو ذہن میں رکھ کر بنائے جاتے ہیں، جہاں پنکھے، ہوا کا اچھا گزر، کشادہ اور سائے دار صحن اور اب اے سی اور پنکھوں کا استعمال کر کے اندر کا درجہ حرارت سنبھالا جاتا ہے۔
یورپ میں گرمیوں کے دن بہت لمبے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے عمارتیں، سڑکیں اور فٹ پاتھ کئی گھنٹوں تک دھوپ جذب کرتے ہیں۔ جب رات کو بھی درجہ حرارت بیس ڈگری سے اوپر رہے، جسے وہ ٹروپیکل نائٹس کہتے ہیں، تو انسانی جسم کو دن کی گرمی سے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔
موسمیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق خشک موسم یا سردیوں میں اصل درجہ حرارت اور محسوس ہونے والا درجہ حرارت ایک جیسا ہوتا ہے کیونکہ تب شمال کی خشک ہوائیں چلتی ہیں۔ لیکن مئی سے ستمبر کے درمیان جب سمندری ہوا چلتی ہے تو ہوا کی نمی بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے محسوس ہونے والا درجہ حرارت اصل درجہ حرارت سے پانچ سے دس ڈگری تک زیادہ ہو سکتا ہے، اور مون سون کے دنوں میں تو یہ فرق اس سے بھی بڑھ جاتا ہے۔