پونگ اور بھاکھڑا ڈیمز سے اخراج ہوا تو راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے، این ڈی ایم اے
ملک کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز بارش اور فلیش فلڈز سے گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے باعث 12 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ این ڈی ایم اے نے جولائی تک مختلف علاقوں کیلئے ممکنہ خطرات پر الرٹ جاری کردیا۔
خیبرپختونخوا میں تیز بارش اور فلیش فلڈز سے گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے باعث 12 افراد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہو گئے ہیں۔ تیز بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 14 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 13 گھروں کو جزوی جبکہ ایک گھر مکمل منہدم ہوا۔
یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع پشاور، لنڈی کوتل، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، چترال لوئر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تور غر اور کرم میں پیش آئے۔
دوسری جانب لنڈی کوتل میں ریسکیو 1122 نے پاک افغان شاہراہ پر پھنس جانے والی 100 سے زائد گاڑیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ سیلابی ریلے میں تین گاڑیاں بہہ گئیں جن میں سے 6 افراد کی لاشیں ریکور کی گئیں۔
نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک کے صاحبزادہ ٹاؤن میں سیلابی ریلے میں پھنسے 12 افراد بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا، آدم زئی کے قریب فلیش فلڈ میں محصور 5 سے 6 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، دونوں ریسکیو آپریشنز کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
چترال لوئر کے مختلف ندی نالوں میں سیلاب، شیشی کوہ ٹینگل، جغورگول اور دیگر علاقوں میں طغیانی سے انفراسٹرکچرکوشدید نقصان پہنچا۔ مین رابطہ پل سیلاب برد ہوگیا ۔ سیلاب سے کھڑی فصلیں، باغات، املاک اور نشیبی علاقوں کے مکانات متاثر ہوئے۔
مظفرآباد
مظفرآباد میں شاہراہ نیلم کہوڑی کے مقام پر گاڑی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر دریائے نیلم میں جاگری، گاڑی سے ایک شخص کو بچا لیا گیا جبکہ دوافراد لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
گوجرانوالہ
گوجرانوالہ اور گردونواح میں موسلا دھار بارش کے باعث مختلف حادثات میں دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ بختے والا محلہ میں کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق ہوگیا جبکہ کی تحصیل نوشہرہ ورکاں کے علاقے تتلےعالی میں بارش کے باعث رائس مل کی چھت گرگئی، ملبہ تلے دب کر ایک مزدور جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوگئے۔
ممکنہ خطرات پر این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
این ڈی ایم اے نے جولائی تک مختلف علاقوں کیلئے ممکنہ خطرات پر الرٹ جاری کردیا،اعلامیے کے مطابق دریاؤں،ندی نالوں اور پہاڑی برساتی گزرگاہوں میں اچانک سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے۔
شمشال، ہنزہ، چپورسن، کلیک، شگر، شیوک اور ہُشے دریاؤں میں سیلابی ریلے آسکتے ہیں، دریائے جہلم، نیلم، پونچھ، مہل، بیٹار نالہ، بھمبر نالہ، کانشی دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے۔ ڈی جی خان، پوٹھوہار ریجن کے پہاڑی برساتی نالوں اور دریائے سواں میں طغیانی کا امکان ہے۔
دریائے چترال، کابل، سوات، پنجکوڑہ، مقم اور کلپانی نالے میں بھی سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے۔ خیبر، کرم، اورکزئی، کوہاٹ، بنوں، کرک، ہنگو، لکی مروت، وزیرستان میں سیلابی ریلوں کا خطرہ ہے، باجوڑ، مہمند، مانسہرہ، بونیر اور صوابی کے ندی نالوں میں بھی سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق شمال مشرقی بلوچستان کے برساتی ندی نالوں اور دریاؤں میں بھی طغیانی کا خدشہ ہے، دریا چناب میں مرالہ اور دریا جہلم میں منگلا کے مقام میں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔
سیلابی صورتحال کا خدشہ
این ڈی ایم اے کے مطابق ڈورا، ڈوٹا، ڈوارہ، بھمبر، ہلسی، ایک، پلکھو، بین، بسنتر، ڈیک اور سکھی نالوں میں بھی پانی بلند ہونے کی توقع ہے، بھارت کے تھین،پونگ اور بھاکھڑا ڈیمز سے اخراج ہوا تو راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے۔
راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، سرگودھا، خوشاب، سیالکوٹ، گجرات، لاہور،نارووال، اوکاڑہ،چکوال اور اٹک کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ
این ڈی ایم اے نے حساس علاقوں میں حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کردی،21 سے سے 23 جولائی تک چترال اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔ این ڈی ایم اے نے عوام کو حساس مقامات اور پہاڑی علاقوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کردی۔